0

افغان سیاسی مفاہمتی عمل کا آغاز؛ طالبان کی حامد کرزئی اور عبد اللہ عبداللہ سے ملاقات


افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے پہلی بار ملک کی سیاسی قیادت سے ملاقات کی ہے دوسری جانب سقوط کابل کے دن سے مفرور افغان صدر اشرف غنی کی متحدہ عرب امارات میں اہل خانہ سمیت موجودگی کی تصدیق ہوگئی ہے۔ طالبان کے سیاسی دفتر کے رکن انس حقانی کی سربراہی میں طالبان کے وفد نے افغانستان کی قومی مصالحتی کمیشن کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کے گھر پر سابق صدر حامد کرزئی سے اہم ملاقات کی۔ جس کے دوران افغانستان کی موجود صورت حال اور عبوی حکومت کے قیام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس اہم ملاقات سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں تاہم طالبان کے برتاو اور رویے میں لچک کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ سیاسی مفاہمتی عمل کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور افغانستان میں قیام امن کا خواب پورا ہوسکے گا۔افغان صدر اشرف غنی کی یو اے ای میں موجودگی کی تصدیق متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے افغانستان کے صدر اشرف غنی ہمارے مہمان ہیں، انھیں اہل خانہ سمیت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امارات میں خوش آمدید کہا ہے۔افغان صدر طالبان کے کابل میں داخل ہوتے ہی اپنے ساتھیوں کو بغیر بتائے ملک سے فرار ہوگئے تھے اور ابتدائی طور پر اطلاعات آئی تھیں کہ وہ تاجکستان گئے ہیں تاہم تاجکستان کی جانب سے تردید کے بعد ان کے عمان جانے کی خبریں زیر گردش تھیں۔جلال آباد کی مرکزی شاہراہ کے اہم اور مصروف ترین اسکوائر پر طالبان نے افغانستان کا قومی جھنڈا اتار کر امارات اسلامی سفید جھنڈا لہرا دیا جس پر شہریوں نے شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طالبان کی فائرنگ میں 3 شہری ہلاک اور 26 زخمی ہوگئے۔ادھر افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے قبضے کے بعد عالمی برادری کی جانب سے ملا جلا رجحان دیکھا جارہا ہے، کہیں طالبان سے تعلقات استوار کرنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں تو کہیں طالبان کو نہ ماننے کے ارادے ظاہر کئے جارہے ہیں۔امریکا میں افغان حکومت کے اربوں ڈالر کے بینک اکاونٹس منجمدامریکا نے فنڈز تک طالبان کی رسائی روکنے کے لیے اپنے بینکوں میں افغان حکومت کے 9 ارب 50 کروڑ ڈالر کی مالیت کے اکاونٹس منجمد کردیئے جب کہ امریکا سے افغانستان ڈالر کی ترسیل بھی روک دی گئی۔اقوام متحدہ انسانی حقوق کا اجلاس طلب افغانستان کے معاملے پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا اجلاس 24 اگست کو جنیوامیں ہو گا، اجلاس میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد انسانی حقوق کے معاملے پربحث ہو گی، اجلاس پاکستان، اسلامی تعاون تنظیم اور افغانستان کی درخواست پر بلایا جا رہا ہے، برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور جاپان سمیت 89 ممالک درخواست کی حمایت کر چکے ہیں۔طالبان تسلیم شدہ دہشت گرد تنظیم ہے کینیڈا کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ طالبان نے طاقت کے ذریعے ایک منتخب جمہوری حکومت پر قبضہ کیا ہے، یہ گروپ کینیڈا کے قانون کے تحت ایک تسلیم شدہ دہشت گرد تنظیم ہے، کینیڈا نے طالبان کو اس وقت بھی تسلیم نہیں کیا تھا جب وہ 20 سال قبل افغانستان پر قابض تھے، کینیڈا کا افغانستان میں طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں