0

حقیقی وقت میں کنٹرول ہونے والا نرم اور کم خرچ مصنوعی ہاتھ


میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے سائنسدانوں نے حقیقی وقت میں فیڈ بیک فراہم کرنے والا کم خرچ اور نرم مصنوعی ہاتھ تیار کیا ہے۔ اس کا وزن صرف ایک پونڈ ہے اور یہ مہنگے متبادل ہاتھوں سے کئی گنا بہتر ہے۔ فوٹو: بشکریہ زوان ہے ژیا شوٹنگ لِنبوسٹن: دنیا بھر میں ہاتھوں سے محروم افراد کے لیے ایک اچھی خبر ہے کہ اب ایک نرم، کم خرچ اور وقت کے ساتھ ساتھ سکڑنے اور پھیلنے والا مصنوعی بازو بنایا گیا ہے جو پہننے والے کو اس کی معلومات (ٹیکٹائل فیڈ بیک) بھی فراہم کرتا ہے۔میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور چین میں واقع جیا تونگ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے مل کر مصنوعی ہاتھ بنایا ہے جس کی بدولت گلاس اور دیگر ہلکی اشیا کو گرفت کرنے اور اٹھانے میں مدد ملے گی۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ ہاتھ کی انگلیاں ضرورت کے لحاظ سے مسلسل پھیلتی اور سکڑتی رہتی ہیں۔اس وقت دنیا بھر میں 50 لاکھ سے زائد افراد پورے یا نصف بازو سے محروم ہیں جنہیں روزمرہ کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔اگرچہ کئی طرح کے جدید برقی مصنوعی ہاتھ بازار میں دستیاب ہیں جنہیں پہننے والا کچھ نہ کچھ محسوس بھی کرتا ہے لیکن وہ بہت ہی مہنگے اور بھاری بھرکم ہوتیہیں۔ لیکن اس بازو کا وزن صرف 225 گرام اور قیمت 500 ڈالر ہے۔ یوں دنیا کے بہت سے لوگ اسے خرید کر اپنی معذوری کا کچھ حد تک ازالہ کرسکیں گے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں