0

سپریم کورٹ نے ریاستی عہدیداروں کو کسی بھی ماورائے آئین اقدام سے روک دیا


اسلام آباد: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے صدارتی حکم اور اسپیکر کی متنازع رولنگ کے پیش نظر ازخود نوٹس کی سماعت میں ریمارکس دیے کہ اقدامات کیے جا چکے ہیں ابھی حکم امتناعی نہیں دے سکتے۔ بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں، سماعت کے دوران عدالت عظمی نے ریاستی عہدیداروں کو کسی بھی ماورائے آئین اقدام سے روک دیا۔سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ہم نے مناسب سمجھا ہے کہ معاملہ کو نوٹس لیں، کیس کو صرف کل کے لیے ملتوی کر رہے ہیں، کوئی بھی ریاستی ادارہ غیر آئینی اقدام نہ کرے۔دوران سماعت سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ جائیزہ لیں گے کہ ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے دی گئی رولنگ کی کیا حیثیت ہوگی اور اس ضمن میں آئینی ارٹیکل 5 میں دی گئی پابندی کا مکمل علم ہے، عدم اعتماد میں شامل تمام سیاسی جماعتیں اور ریاستی ادارے امن وامان برقرار رکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں