0

لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول امیرِ طالبان کے حکم پر بند کیے گئے


کابل: افغانستان میں لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولوں کے کھلنے کے پہلے ہی روز بندش پر جہاں سب نے حیرت کا اظہار کیا وہیں اس اہم مسئلے پر طالبان قیادت کے دو واضح گروپوں میں تقسیم ہونے کے اشارے ملے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق طالبان کے سینیئر عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولز کھلنے پر امیر طالبان ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے خود مداخلت کی اور اسکولز بند کرائے۔سینیئر عہدیدار نے مزید انکشاف کیا کہ لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول کھلتے ہی قندھار میں ایک خفیہ میٹنگ ہوئی جس میں سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوند زادہ اور کچھ دیگر سینئر شخصیات چیف جسٹس عبدالحکیم شرعی، مذہبی امور کے وزیر نور محمد ثاقب اور نائب محمد خالد حنفی نے مخالفت کی۔طالبان عہدیدار نے اے ایف پی کو مزید بتایا کہ طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے دو گروپ ابھر کر سامنے آئے ہیں ایک قدامت پسند اور دوسرا شہری گروپ اور اس معاملے پر قدامت پسندوں نے یہ رانڈ جیت لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں