0

عزت کا راستہ یہی ہے کہ منحرف رکن مستعفی ہو کر گھر جائے، سپریم کورٹ


اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس منیب اختر نے صدارتی ریفرنس کی سماعت میں ریمارکس دیے ہیں کہ عزت کا راستہ یہی ہے کہ منحرف رکن مستعفی ہو کر گھر جائے۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی۔تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیے کہ 63 اے کو شامل کرنے کا مقصد ہارس ٹریڈنگ کو ختم کرنا تھا، 63 اے کی خلاف ورزی آئین کی خلاف ورزی ہے، اس کے نتیجے میں ووٹ شمار نہیں ہوگا، ووٹ کاسٹ ہوگا لیکن گنا نہیں جائے گا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے علی ظفر سے پوچھا کہ آپ کہہ رہے ہیں ووٹ کاسٹ نہیں ہوں گے، ووٹ شمار کرنا اور انحراف کرنا دونوں مختلف چیزیں ہیں ، اگر سیاسی جماعت کی کوئی ہدایت ہی نہ ہو تو ووٹ گنا جائے گا یا نہیں ، کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ ہدایات نہ ہونے پر بھی رکن اسمبلی کا ووٹ شمار نہیں ہوگا، آئین میں 63 اے شامل کرنے کا مقصد انحراف کے کینسر کو ختم کرنا تھا۔علی ظفر نے جواب دیا کہ پہلے سربراہ ہدایات جاری کرے گا، پھر ممبران کے خلاف ڈیکلریشن جاری کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں