0

پارٹی ڈسپلن سے ہٹ کر ووٹ دینے سے سیاسی پارٹی ٹی پارٹی بن جائے گی، چیف جسٹس


اسلام آباد: چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آرٹیکل 63 اے کے صدارتی ریفرنس کی سماعت میں کہا ہے کہ پارٹی ڈسپلن سے ہٹ کر ووٹ دینے سے سیاسی پارٹی ٹی پارٹی بن جائے گی جب کہ جسٹس جمال نے ریمارکس دیے کہ اگر انحراف غلط کام ہے تو آئین اس کی اجازت کیوں دیتا ہے؟ سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ اٹارنی جنرل کو تاخیر ہوگئی وہ اسلام آباد کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا کام نہ کریں جس سے کوئی اور تاثر ملے، اٹارنی جنرل نے پیر کو دلائل میں معاونت کی بات خود کی تھی، مخدوم علی خان کو بھی آج دلائل کے لیے پابند کیا تھا، ابھی ہمیں اطلاع ہے کہ مخدوم علی خان بیرون ملک سے واپس نہیں آئے، یہ دونوں وکلا صاحبان ایک فریق کے وکیل ہیں، ایک سرکار کا وکیل ہے دوسرے سیاسی جماعت کے نجی وکیل ہیں، اب لگتا ہے اپ اس معاملے میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں