0

ٹائفائیڈ بیکٹیریا موجودہ ادویہ کو تیزی سے بے اثر کر رہا ہے


لندن: ٹائفائیڈ بخار کی وجہ بننے والا بیکٹیریا نہ صرف تیزی سے بدل رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں اس کے پھیلا میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔لینسٹ نامی ممتاز طبی جریدے میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سالمونیلا اینٹریکا سیروور ٹائفائی (ایس ٹائفائی) بیکٹیریا کا تفصیلی جینیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ نہ صرف بیکٹیریا مشہور ترین اینٹی بایوٹکس کو ناکام بنارہا ہے بلکہ 1990 سے اب تک اس کے عالمی پھیلا میں 200 گنا اضافہ ہوچکا ہے۔جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے ٹائفائیڈ کی یہ قسم اب دنیا بھر میں پھیل رہی ہے جو اب عالمی مرض بنتی جارہی ہے لیکن اس سے زیادہ تشویش ناک امر ایس ٹائفائی کا علاج کرنے والی مشہور ترین اینٹی بایوٹکس کی ناکامی ہے اگرچہ ابھی تحقیقات محدود اور مطالعہ چھوٹا ہے لیکن اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں