0

سونگھ کر بیماری کا پتا لگانے والی روبوٹک ناک


بیجنگ: چین کی سِنگوا یونیورسٹی کے سائنس دان بیماریوں کی تشخیص کے لیے ایسی تکینیک پر کام کر رہے ہیں جس سے سانس، پسینہ، آنسو اور جسم سے خارج ہونے والے دیگر موادمیں موجود کیمیائی مادوں کو سونگھ بیماریوں کا پتہ لگایا جا سکے گا۔جب بھی کسی پرفیوم یا پھول کی خوشبو کو سونگھا جاتا ہے یا سانس کے ذریعے آلودگی ناک میں جاتی ہے تو در اصل جسم غیر مستحکم حیاتیاتی مرکبات کو محسوس کررہا ہوتا ہے۔ یہ مرکبات وہ کیمیکل ہوتے ہیں جن کا نقطہ ابال کم ہوتا ہے لہذا وہ جلدی بخارات بن جاتے ہیں۔تمام حیاتیاتی اشیا متعدد مقاصد کے لیے قصدا یہ مرکبات خارج کرتے ہیں جن میں دفاع، مواصلات اور افزائشِ نسل جیسے امور شامل ہیں۔ لیکن یہ مرکبات تمام حیاتیاتی عملیات کے طور پر ویسے بھی خارج ہوتے رہتے ہیں جس میں بیماری کی شناخت شامل ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر بیماری کا ایک مخصوص مرکب ہوتا ہے جو اس کی تشخیص کا سبب بن سکتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں