0

شیر خوارگی میں اینٹی بائیوٹکس کا استعمال، مستقبل میں پیٹ کے مسائل کا سبب قرار


میلبرن: ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ شیر خوارگی کی عمر میں اینٹی بائیوٹکس کا دیا جانا مستقبل میں پیٹ کے نظام کے لیے مسائل کھڑے کر سکتا ہے۔متعین وقت سے قبل اور کم وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کو انفیکشنز سے بچانے کے لیے، جن کا خطرہ ان کو زیادہ لاحق ہوتا ہے، باقاعدگی کے ساتھ اینٹی بائیوٹکس دی جاتی ہیں۔جرنل آف فیزیولوجی میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں محققین نے چوہوں کو اینٹی بائیوٹکس ادویہ کھلا کر ان کا مطالعہ کیا۔تحقیق میں معلوم ہواکہ نومولود چوہے کے بچوں کو اینٹی بائیوٹکس ادویہ کا دیا جانا ان کے مائیکرو بائیوٹا (مائیکرو حیاتیات)، اعصابی نظام کے جزوی خود مختار حصے اور پیٹ کے نظام پر دیرپا اثرات رکھتا ہے۔اس کا مطلب ہوسکتا ہے کہ بچوں کو دی جانے والی اینٹی بائیوٹکس مستقبل میں بڑھ کر پیٹ کے مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔یونیورسٹی آف میلبرن میں قائم ڈیپارٹمنٹ آف انیٹمی اینڈ فزیولوجی کی محققین کی ٹیم کی تحقیق پہلی تحقیق ہے جس میں نومولود چوہے کے بچوں کو دیے جانے والے اینٹی بائیوٹکس کے دیرپا اثرات تھے جس کے نتیجے میں ان کے پیٹ کا نظام خراب ہوگیا تھا، یعنی بڑی عمر میں اس کی منہ سے پیٹ تک غذا پہنچنے کی رفتار میں اضافہ اور ہیضہ جیسی علامات شامل تھیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں