0

ہم بھی نہیں چاہتے پاکستان دیوالیہ ہوجائے، شوکت ترین


کراچی: سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ حکومت ہمیں الزام دینا ترک کرے، حکومت انفلوز اور آٹ فلوز کا بیلنس کرکے دکھادے صورت حال واضح ہوجائے گی اور مارکیٹوں میں نادہندگی کے شکوک وشبہات ختم ہوجائیں گے۔یہ بات انہوں نے پیر کو کراچی پریس کلب میں مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان ڈیفالٹ کرے اور انشااللہ ڈیفالٹ نہیں کرے گا، ٹیکس محصولات میں کمی آرہی ہے جس سے مالی خسارہ بڑھ گیا۔انہوں ںے کہا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مالی خسارے کا تخمینہ 400 ارب رکھا جو اب 810 ارب روپے ہوگیا، حکومتی منیجرز خود اعتراف کر رہے ہیں کہ جی ڈی پی گروتھ صفر فیصد رہ سکتی ہے، آئی ایم ایف نے نئے ٹیکس لگانے کا کہہ دیا ہے لیکن آئی ایم ایف جائزہ کب ہوگا کچھ نہیں معلوم۔شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار نے کہا کہ آئی ایم ایف سے ڈیل پر نظرثانی کریں گے تو اس کا کیا ہوا ؟ اسحاق ڈار نے کہا کہ ڈالر 200 سے نیچے لاں گا لیکن نہیں آیا، اس وقت 224 روپے انٹربینک اور اوپن کرنسی ریٹ 230 روپے ہے لیکن اوپن مارکیٹ میں قرعہ اندازی پر 240 روپے میں ملتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں