0

معمولی ذہنی تنا آپ کے لیے مفید بھی ہوسکتا ہے


ایتھنز: ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ذہنی تنا کے دماغ کی فعالیت پر ممکنہ طور پر مضر اثرات نہیں ہوسکتے۔یونیورسٹی آف جورجیا میں کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ کم سے معتدل نوعیت کا تنا یادداشت کی کارکردگی میں بہتری لاتی ہے۔محققین کی جانب سے واضح کیا گیا کہ تحقیق کے نتائج ذہنی تنا کے کم سے معتدل سطح تک مخصوص تھے۔ تنا کی یہ سطح ایک بار معتدل سطح سے تجاوز کرجائے اور مستقل ہوجائے تو یہ انسان کے لیے انتہائی مضر ہوجاتی ہے۔تحقیق کے سربراہ مصنف آسف اوشری کا کہنا تھا کہ تنا کے مضر نتائج کافی واضح ہیں اور یہ نئے نہیں ہیں۔مستقل شدید ذہنی تنا دماغ کی ساخت بدل سکتا ہے جس کے نتیجے میں سرمئی مادہ، جو پٹھوں کو قابو کرنے، فیصلہ سازی، خود پر اور جذبات پر قابو کرنے میں شامل ہوتا ہے، کے بدلے سفید مادے میں اضافہ ہوتا ہے۔دائمی تنا لوگوں کو متلی سے لے کر سر درد تک اور بلند فشار خون اور امراضِ قلب جیسی متعدد بیماریوں کے لیے آسان ہدف بناسکتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں